Guidelines for Authors

  1. Research Journal The Islamic Culture "As-Saqafat-ul Islamia" الثقافة الإسلامية is the sole interpreter of Sheikh Zayed Islamic Centre, University of Karachi which is being published since 2004.
  2. All of our issues and articles can be accessed on our website theislamicculture.com and can be downloaded in PDF format. Also the articles can be downloaded from Islamic Research Index Agency (http://iri.aiou.edu.pk/indexing/?page_id=13632)۔ .
  3. Article should be written in Microsoft Word. Inpage files would not be acceted at all.
  4. All articles should be uploaded via our Online Journal System theislamicculture.com
  5. Originality and Anti-Plagiarism Certificate should also be filled and sent via email (editor@szic.edu.pk) which can be downloaded from our website (http://www.theislamicculture.com/downloads/plag-cert.pdf)
  6. Research paper can be in any of the three languages: Arabic, English Urdu
  7. Research paper should neither be already published nor under consideration of publication elsewhere
  8. Editing is the sole responsibility of the author. Please ensure editing of research paper before sending it for publication.
  9. General research norms and policies of Higher Education Commission, Pakistan should be respected.
  10. Research paper should be composed on one side of the aper on A4 size
  11. Digital Editing should follow
    1. Use Times New Romans for English, Jameel Noori Nastaleeq font for Urdu and Traditional Arabic Font for Arabic.
    2. Use 12 Font size for English and 14 for Urdu and Arabic
    3. Heading Font Size for English is 14 and 16 for Urdu and Arabic
    4. Use Endnotes in 10 font size in English and 12 for Urdu and Arabic
  12. Included in Paper:
    1. Research paper must contain an abstract of at least 200 words in English followed by 5 Key Words.
    2. Abstract must follow an Introduction. It should briefly introduces the research along with the methodology and basic objectives of the research.
    3. Discussion should detail the arguments of the research and its general implications.
    4. Conclusion should conclude the discussion.
    5. All references should be given the endnotes according to the policy of The Islamic Culture..
    6. It should follow Chicago Manuel Style
    7. For Books, start with urfi name of the author, then his complete name, name of book, publisher, place of publication, edition, year of publication, volume and page no. For example, Razi, Muhammad Bin Umar, Asrar ut tanzil wa anwar tawil, Edited Salih bin Abdul Fattah, Dar ul Marifa, Beirut, Lenbon, 1st Edition 1432h, Vol. 1, p: 50.
    8. If edited or translated book, then the name of editor or translator.
    9. If referred is a Quranic verse, then its font should be Traditional Arabic. For example : Suratul Baqar 2: 30
    10. Ahadith are referred as: Bukhari, Muhaaamd Bin Ismail, Al Jamie Sahih lil Bukhari, kitab ul janaiz, bab ziyrat ul qubur, Hadith No. 1283, Darul Kutub il Ilmiayh, Beirut, Lenbon, 9th edition, 1438h, Vol: 1, p. 238.
  13. The Islamic Culture is a Bi annual journal of department of Islamic Learning, University of Karachi, Karachi, Pakistan.
  14. Before publication, Each research undergoes double blind peer review in The Islamic Culture.
  15. The decision of editorial board is final.
  16. The author of research paper stands responsible for his views and its implications repercussions. The Islamic Culture or Sheikh Zayed Islamic Centre bears no responsibility whatsoever in the views published.
  17. Editorial board reserves the right of modification in the received research. However, the edited research will be published only after the consent of the author.
  18. The author will be given two copies of the journal if published. However, The Islamic Culture is not responsible to return the research paper in either way published or unpublished.

  

ہدایات برائے مقالہ نگاران

مجلہ الثقافہ الاسلامیہ شیخ زاید اسلامک سینٹر جامعہ کراچی کا حقیقی ترجمان ہے جو 2004 سے مسلسل شائع ہو رہا ہے، ہمارے تمام سابقہ شمارے اور مقالات ہماری ویب سائٹ

 (http://journals.szic.edu.pk/)  

سے PDF  فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں،  نیز

 (IRI)

 کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں جس کا لنک یہ ہے

(http://iri.aiou.edu.pk/indexing/?page_id=13632)۔

  مجلہ الثقافہ الاسلامیہ  میں شائع ہونے والے مقالات کا منھج وہی ہے جو عالمی طور پرعلومِ اسلامیہ میں  رائج ہے،  ان میں سے  چند اہم  ملاحظات توثیق، تسھیل اور ابحاث کو مزید مستند    بنانے کی غرض سے   یہاں پیش خدمت ہیں :

ـ مقالہ ایم ایس ورڈ میں لکھا ہوا ہونا چاہیے، انپیج کی فائل ہر گز قابل قبول نہیں ہوگی،  تمام مقالات

 مجلہ الثقافۃ الاسلامیہ کی ویب سائٹ

https://journals.szic.edu.pk

  پر رجسٹریشن کرانے کے بعد ارسال کریں

ـ  مقالے کے ساتھ علمی سرقہ کا حلف نامہ

(Originality and Anti-Plagiarism Certificate)

 پیش کرنا ضروری ہے  جوکہ ہماری ویب سائٹ

http://www.theislamicculture.com/downloads/plag-cert.pdf

سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

مقالہ A+4 سائز کے صفحہ پر ہونا چاہیے،  اردو    فونٹ سائز جمیل نستعلیق نوری میں 14 ، عربی

  (Traditional Arabic)

میں 16، اور انگلش میں  12 ہونا چاہیے، اور ٹوٹل صفحات 10 سے 20 کے درمیان ہوں۔ نیز ادارہ  حسب ضرورت  کمی زیادتی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

3ـ قرآن مجید کی آیات مبارکہ  کسی قرآنی سوفٹ وئیر سے کاپی کی جائیں، ہاتھ سے لکھی گئی آیات قابل قبول نہیں ہوں  گی، نیز آیات کے شروع اور آخر میں قوس مزھر ﴿ ﴾  ہونا چاہیےمثلاً،  قرآن کریم میں ہے:﴿ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾(1). اور پھر

 (Endnote)

 میں یوں: (1) الإسراء: 17/36.

4ـ حدیث کی تخریج میں کتاب کے نام اور اس کی طباعت کی تفصیل درج کرنے کے بعد کتاب، باب، حدیث نمبر، جلد اور صفحہ نمبر بتایا جائے، کوشش کی جائے کہ سب سے پہلے راوی یعنی صحابی کا نام بھی ذکر کیا جائے خصوصاً جب وہ حدیث کتبِ مسانید میں سے ہو۔ سب سے پہلی بار حدیث  کا حوالہ یوں ہونا چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ فرماتے ہیں:« إِنْ كَانَتِ الأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ المَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ»([1]). اور پھر

 (Endnote)

میں یوں: ([1])صحیح بخاری: محمد بن إسماعيل بخاری(ه ت 256)، دار ابن كثير، دمشق، شام, ط3 ، 1978 م,  کتاب الأدب، باب الکبر، حدیث نمبر(6072): 8/20۔   مصنف کا نام یا لقب پہلے اور بقیہ معلومات بعد میں بھی ذکر کی جا سکتی ہے جیسا کہ ہمارے ہاں  پاکستان میں عام محققین کا طریقہ ہے، لیکن حدیث کی تخریج کا طریقہ یہی ہونا چاہیے،   دوبارہ  حوالے میں مصنف اور کتاب کی طباعت کیے متعلق معلومات ذکر نہ کی جائیں، مذکورہ حدیث کا  حوالہ دوسری بار یوں ہوگا: ([1])  صحیح بخاری,  کتاب الأدب، باب الکبر، حدیث نمبر(6072): 8/20۔  

5ـ کتب فقہ کی توثیق میں کتاب، باب، فصل اور اگر اس کے بعد مطلب، فصل یا کوئی اور چھوٹا عنوان ہو تو اسے ذکر کرنے کے بعد جلد اور صفحہ نمبر ذکر کیا جائے، مثلا: ابن عابدين, كتاب البيوع, باب خيار العيب, مطلب في مسألة المُصَرَّاة: 5/160. اسی طرح دیگر تمام کتب میں بھی سب سے پہلے بڑا عنوان پھر اس سے چھوٹا اور آخر میں اس کا ذیلعی عنوان مذکور ہو۔ مثلاً سیرت کی کتب سے حوالہ یوں ہونا چاہیے، سیرت النبی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی، واقعہ طائف: 2/250۔

6ـ تمام مصادر ومراجع وحوالہ جات وتعلیقات وغیرہ کے آخر میں نقطہ لگانا ضروری ہے جیسا کہ ہر پیراگراف کے آخر میں لگایا جاتا ہے۔

7ـ تمام مصادر ومراجع وحوالہ جات وتعلیقات وغیرہ مقالہ کے آخر میں

 (Endnote)

کی شکل میں ہونے چاہیں۔

8ـ تمام مصادر ومراجع وحوالہ جات وتعلیقات وغیرہ مقالہ کے نمبرز ہمیشہ ہلالین یا قوسین یعنی گول بریکٹ میں ہونے چاہیں مثلا یوں (1) ، خواہ وہ نمبرز  عبارات کے وسط میں ہوں یا  

(Endnote)

 سے پہلے۔ اس کے علاوہ یہ نمبرز آٹومیٹک ہوں نہ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے۔

9ـ اردو اور عربی کے مقالات کے ٹائٹل کے تحت انگلش میں ترجمہ ہونا ضروری ہے، پھر مقالہ نگار کا  اردو اور انگلش میں نام اور اس کے ساتھ حاشیہ میں مقالہ نگار کا  اردو اور انگلش میں  علمی منصب پھر انگلش میں

 (Abstract)

اور کلیدی الفاظ

(Keywords)

 اور پھر اُس مقالے کا اردو میں ٹائٹل اور تقریبا   200 لفظوں  پر مشتمل    اردو میں خلاصہ خواہ وہ مقالہ کسی بھی زبان میں ہو، یاد رہے یہ اُس خلاصہ سے ہٹ کر ہے جو مقالے کے آخر میں نتائج, تجاويز اور سفارشات کی شکل میں لکھا جاتا ہے، وہ اپنی جگہ پر برقرار رہے گا۔

10ـ مقالہ حتى الامکان  علمی اور منطقی تقسیم پر مشتمل ہونا چاہیے ، اور تمام عناوین ڈارک اور بقیہ عبارت سے نمایاں ہوں۔

11ـ مجلہ الثقافہ الاسلامیہ  علوم اسلامیہ کیلئے خاص ہے، کوئی بھی ایسا مقالہ شائع نہیں ہوگا جس کا تعلق متعلقہ موضوعات سے نہ ہو۔

12ـ ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ کی غلطیوں  یا منہج علمی پر پورا نہ اترنے کی صورت میں مقالہ مسترد کر دیا جائے گا، عدم توجہی کی بنا پر شائع ہونے  کی صورت میں مقالہ نگار  ہر قسم کی غلطیوں کا ذمہ دار خود ہوگا۔